پولیس کی اہمیت اور معاشرہ

ستارہ منیر (کبیروالہ بارہ میل)

جیسا کہ ہم جانتے ہیں۔ کہ معاشرے میں ایک محکمہ بہت وسیع ہے۔ جس کا نام پولیس ہے۔ یہ ایک خلیفہ کے دور میں ریاستوں کی حفاظت و نمائندگی کے لئے ترتیب دیا گیا تھا۔ ان کا کام لوگوں کی حفاظت انکے جان مال کی حفاظت کرنا ہے۔ ہمارے معاشرے میں پولیس کو اہمیتِ کیوں نہیں دی جاتی؟؟؟سوال یہ ہے؟؟اگر کہیں کوئی آرمی کا جوان اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے۔ مارا جاتا ہے۔ تو ہم کہتے ہیں کہ پاک آرمی کا جوان شہید ہوا ہے۔سلام ہے ان ماؤں کو جو شیر دل ہوکر شیروں جیسے بیٹے پیدا کرتی ہیں۔اور اگر کوئی پولیس کا جوان اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ قتل ہوگیا ہے۔جیسا کہ ہماری آرمی کے جوان اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر دن رات آگ میں پانی میں پہاڑوں میں زمین میں ہوا میں اپنے ملک اپنی عوام کی حفاظت کےلئےہر وقت موجود ہوتے ہیں۔ان کو سلام ہے۔تو وہی پولیس کا نام ذہہن میں آتا ہے۔جو اپنی ڈیوٹی پر اپنے اپنے شعبہ جات میں عوام کی خدمت کے لئے سر گرم رہتے ہیں۔۔مان لیتے ہیں کہ رشوت ایک برا الفاظ ہے۔جو کہیں نہ کہیں اس محکمے میں پایا جاتا ہے لیکن ہر پولیس آفیسر بھی رشوت خور نہیں ہوتا۔ہم کسی ایک کی وجہ سے ہر اس ایماندار آفیسر کی بھی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں جو اس ناپاک عزائم رشوت خوری سے دور ہوتا ہے۔ہماری پولیس کے بہت سے کارنامے ایسے ہیں۔جن سے انکی مثالیں قائم ہیں۔یہی ہمارے معاشرے میں ہماری جان و مال کی حفاظت کے لیے پیش پیش ہوتے ہیں۔لحظہ'ان کا احترام کیا جائے۔ان کی عزت کی جائے  ہم پر فرض ہے۔ہم ان کو برا کیوں کہتے ہیں؟؟انکی بہادری ان کی ایمانداری کے قصے بھی موجود ہیں۔تاریخ سے کئ مثالیں ملتی ہیں۔اگر یہ محکمہ خراب ہوا ہے تو اس کے کچھ ہم ذمہ دار ہیں؟؟؟اب سوال یہ ذہہن میں آتا ہے۔کہ ہم کیسے ذمہ دار ہیں؟؟؟ان کو ہم ہی خراب کرتے ہیں- عزت نا دے کر لالچ دے کر تعلق داریاں بنا کر ۔معاشرے میں اپنا مقام بنانے کے لئے۔کیونکہ ہمارا زور غریب اور کمزور عوام پر چلتا ہے۔جن کو ہم تعلق داری سے ڈراتے دھمکاتے ہیں۔ تو اسی وجہ سے خوف سے عوام کے دل غریب عوام کے دلوں میں نفرت پیدا ہوتی ہے۔اس کے ہم ذمہ دار ہوتے ہیں۔کہیں ہم ان کو رشوت خور کہ رہے ہیں تو کہیں ہم ان کو مفت کی تنخواہ لینے والے کہ رہے ہیں۔ کہیں گالم گلوچ۔۔ہم ایسا کیوں کرتے ہیں؟ یہ بھی ہماری حفاظت کےلئے ہوتے ہیں۔کہیں عزت کا مسلہ ہے- قتل کا تو چوری کا یہی حفاظت کو آتے ہیں۔سلام ہے ہمارے قابلِ احترام پرائم منسٹر کپتان عمران خان نیازی جس نے ایک ہونے والی تقریب میں شامل ہوکر جوانوں کی حوصلہ افزائی کی ۔اور ان کو ایک مضبوط اور قابلِ احترام محکمہ قرار دیا ۔اور اس محکمہ کے ہر جوان کو خود پر فخر محسوس ہوا۔ہمارے ہر پولیس آفیسر جوان کو ہونا بھی قابلِ احترام چاہئیے کہ خود پر پولیس آفیسر ہونے پر فخر محسوس کرے۔اور جو کسی سانحہ میں قتل ہوتے ہیں ۔ پولیس کا کوئی جوان کسی کیس میں کسی کی حفاظت کرتے ہوئے۔تو ہم انہیں شہید کا نام دیں۔اور شہید ہونے والے کو اعزازی نام بھی دیا جائے

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

تو بس اتنا سمجھ لینا