کشمیر

ستارہ منیر (کبیروالہ بارہ میل)

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ کشمیر بہت ہی خوبصورت جنت کا ٹکڑا وادی ہے یہ تقسیم ہوتے وقت الگ کر دی گئی تھی۔وادی کشمیر کے لوگ بہت دلیر اور بہادر ہیں۔سلام ہے ان بہنوں کو جو روز بھائی شہید ہوتے دیکھتی ہیں سلام ہے ان ماؤں کو جو روز اپنے شیر شہید ہوتے دیکھتی ہیں سلام ہے ان والدین کو جو اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے تڑپتے جگر پاروں کو شہید ہوتے دیکھتے ہیں۔جو خوبصورت خواب لے کر اس دنیا میں آ تے ہیں لیکن ان کو کیا پتہ ہوتا ہے وہاں کیا ظلم ڈھائے جارہے ہوتے ہیں۔ایسے ظلم جہاں دن میں لاکھوں پھولوں کو ٹہنیوں سے توڑ دیا جاتا ہے۔جہاں لاکھوں باغوں کو مسمار کیا جاتاہے۔جہاں لاکھوں عزتوں کو خاک میں ملایا جاتا ہے۔ان کے والدین انکے بھائیوں کے سامنے۔منظر آنکھوں میں لائے اور غور کریں کیا قیامت برپاتا ہوگا وہ پل جب بھائیوں کے سامنے اور والدین کے سامنے بہنوں بیٹیوں کی عزت مٹی میں ملائی جاتی ہے کتنے بےبس ہوتے ہیں اس وقت سوچیں؟؟؟روزانہ لاکھوں پھول یعنی اس دھرتی کے بچے جن سے انکی جنتیں چھین لی جاتی ہیں کیا قیامت برساتا ہوگا وہ پل سوچیں؟ مسلم کے لہو سے بیٹوں کے شیروں کے بیٹیوں کے لہو سے سرخ ہوتی جارہی ہے وہ زمین۔عرش ہل جاتا ہے جب کسی ماں بہن بیٹی کی چیخ نکلتی ہے کسی جوان کو لہو میں نہاتے ہوئے دیکھ کر جب ان کی زبان سے نکلتا ہے اللہ اکبر اللہ اکبر۔ انکی ایک ہی صدا ہے پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ کشمیر بن کے رہے گا پاکستان۔ہمارے الفاظ ہیں ہم تو لکھ دیتے ہیں لیکن درد ان سے پوچھیں جو یہ سب 70.72 سال سے جھیل رہے ہیں۔اتنے ظلم دیکھ کر انسانیت شرما جاتی ہے۔5فروری کا دن آتا ہے ہم جی کشمیر ڈے منا رہے ہیں کیسے منا رہے ہیں؟؟سکولوں کالجوں یونیورسٹیوں میں چھٹی کرکے یا ایک دو تقریریں کرکے ایسے؟؟؟اور وہاں سرخ زمین ہو رہی ہے۔کیا کیا سوچا ہوگا کیا کیا جزبات ہونگے ان کے کبھی سوچا ہم نے۔نہیں ہم تو آزاد ہیں ہمیں تو سب کچھ مل رہا ہے ہماری تو عزتیں محفوظ ہیں ہمیں کیوں تکلیف ہوگی؟؟نہیں جاگو قوم جاگو۔وہ کتنے بہادر لوگ ہیں اتناکچھ سہنے کے بعد اتنے پھول جنکی مہک بھی اب پھیلنی تھی وہ کونپلیں جن کو اب کھلنا تھا وہ مسلے جانے کے باوجود بھی اللہ اکبر وہ لاالہ الااللہ کی صدا سے وادی کو مہکاتے ہیں۔ان پر ہونے والے ظلم کو کوئی بیان کرے یا تحریر وہ بھی سکون سے کوئی ہے ایسا قلم یا ایسا دل؟؟؟نہیں نا:تو وہ بھی انسان ہیں جو سہ رہیں ہیں۔۔ ہم کیوں خاموش ہیں؟کیا ہمارے ضمیر مارے گئے ہیں؟یا ہم خود ظالم بن چکے ہیں؟یا ان تڑپتی روتی بلکتی چیختی ماؤں بیٹیوں کی پکار ہم تک نہیں آرہی؟ان پر تو ظلم کی حد ہے ہر اٹھنے والی آواز کو دبا دیا جاتا ہے۔سرعام ہر راستے ہر گلی محلہ ہر سڑک پر ہمارے جوانو کالہو ہے۔ہر ہندوستانی کے پیروں میں ہماری اسلام کی شہزادیاں ہماری ظلم سہنے والی بیٹیوں کے دوپٹے ہیں۔کب ائے گا ان کے لئے کوئی محمد بن قاسم انتظار ہے ان کو محمد بن قاسم کا۔جو ایک بیٹی کی پکار پر سب کچھ فتح کرتے آئے۔کیا سب سو چکے ہیں؟ان کو انتظار ہے محمد بن قاسم کا ٹیپو سلطان کا عباسی خاندان کے غیرت مند نوجوانوں کا کب آئیں گے انہیں اس عزیت سے نکالنے اس قرب سے نکالنے ؟؟کیا ہمیں ان کی جلتی تڑپتی لاشیں چیخیں سنائی نہیں دے رہی کیا ان کی پکار ہم نہیں سن رہے؟؟خدارا رحم کرو اور جاگ جاو۔ہمیں ان کا ساتھ دینا ہے اس جنت کے ٹکڑے کو ظلمت سے بچانا ہے۔اس لہو کی لاج رکھنی ہے جو حق مانگتے مانگتے منو مٹی تلے چلے گئے ہیں ان عزتوں کی جو محمد بن قاسم پکارتی پکارتی پامال ہو چکی ہیں۔اٹھ جاو اے اس پاسبان کے شاہینوں اور دکھا دو غیرت کہ ابھی لاکھوں محمد بن قاسم اس دھرتی اور عزتوں کےلئے قربان ہونے کےلئے ہیں۔ ابھی ہماری کشمیر کی بہنیں لاوارث نہیں ہوئی۔ہم کھڑے ہیں دوپٹہ لےکر ننگے سروں کو ڈھانپنے کےلئے۔ہماری پوری قوم اگر ان کے درد تکلیف کو سمجھ لے تو میں دعوے سے کہ سکتی ہوں محمد بن قاسم ٹیپو سلطان عباسی خاندان جیسے بہت سے شیر نکل آئیں گے۔قائد اعظم بھی تو ایک انسان تھا۔جس نے دن رات محنت کی۔علامہ محمد اقبال ہمارے قومی شاعر جس نے خواب دیکھا ایک الگ ریاست کا۔اور اپنی شاعری سے قوم کے جزبے کو اجاگر کیا اور وہ کر دکھایا کجو ناممکن تھا۔اپنا وطن اپنا حق چھین لیا مجبور کردیا کمزور کردیا دشمنوں کو۔تو کیا ہم ایسا نہیں کرسکتے؟کیا ہم ان کا ساتھ نہیں دے سکتے؟اگر ہم پوری قوم ایک ہوجائیں ان کی خاطر میرا دعوی ہے کہ جیت ہماری ہوگی۔جیتے ہوئے تو ہم پہلے ہی ہیں کیونکہ وہاں صدا گونجتی بھی اللہ اکبر کی ہے۔ہمارے حکمران بس باتیں کرتے ہیں؟کسی تقریر میں ہی جاگتے ہیں۔اس کے بعد سو جاتے ہیں ان کو صرف اپنے مفادات ست غرض ہے اپنی حکومت بچانے سے غرض ہے۔اور اس خون کی غرض نہیں جو نا حق بہایا جاتا ہے۔ کیوں؟خدارا رحم کریں۔اس جنت نظیر وادی کو دیکھیں جہاں سڑکوں گلیوں محلوں میں خوف کا سناٹا ہے جہاں ہندوستانی اپنا حق جتانے کو پھرتے ہیں جہاں بوڑھے والدین کے سہارے چھین لئے جاتے ہیں جہاں سہاگ اجڑ جاتے ہیں جب کسی معصوم بچے کو یتیم کرتے ہیں نا تو بچہ گھر دروازے کی طرف دیکھ دیکھ کہتا ہے نا امی بتا نا ابو کیوں نہیں ائے اتنی دیر ہوگئی ہے اس وقت کیا بیت رہا ہوتا ہے اس کی ماں بہن بیٹی پر قلم میں بیان کرنے کی طاقت نہیں۔خدا کے لئے جاگ جاؤ۔ایک یکتا قوم بن جاو کشمیر کی آواز بن جائیں ختم کردیں وہاں کے دشمنوں کو ختم کردیں دہشت گردی کو۔جہاں پر ہر پل بھوک ہے کرفیو ہے سنسانیت ہے۔ہمارے حکمرانوں کو کیوں نہیں نظر آتا ظلم ؟کیا ضمیر مر گے ہیں؟ یا خود ظالم ہوگے ہیں؟؟یا سیاست کا نشہ ہے صرف آنکھوں پر؟کیا وہ ہمارے جون شاہیںن نہیں نہیں جنکے پرواز سے پہلے پر کاٹ دئیے جاتے ہیں۔کیا وہ عزتیں نہیں جن کا دوپٹہ اوڑہنے سے پہلے اتار لیا جاتا ہے غیرت مند بنو اور جاگ جاو نیند سے۔کاش اے وادی کشمیر میرے بس میں ہوتا تو تیری دھرتی پہ گرے ہر پاک لہو کے قطرے کا حساب لیتی۔کاش اے پیاری زمین کاش۔ پلیز آئیے ہم آج مل کر کشمیر کی اواز بنتے ہیں اور مل کر عہد کرتے ہیں کہ ان کا درد بانٹنا ہے انکے حق کےلئے لڑنا ہے وہ ہمارا جگر کا ٹکڑا ہمارا حصہ ہے کشمیر بن کے رہے گا پاکستان انشاء اللہ پاکستان ذندہ آباد

Comments

Popular posts from this blog

تو بس اتنا سمجھ لینا